Fri. Dec 13th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

ماورائے نظامِ شمسی سیّاروں کی روشنی کا مشاہدہ

1 min read

نظامِ شمسی سے باہر کے سیاروں کو دیکھناأسان نہیں. بے شمار نوری سالوں کی دوری پر چھپی ہوئی ان خلائی چٹانوں کے بارے میں جاننے کے لئےسائنسدان بہت سے بلواسطہ طریقوں سے انکی جانچ کرتے رہتے ہیں. خلاباز سیّارے کی پوزیشن واضح کرنےکےلئےاس کاستارا جو کائنات کے تعلق سے غیر مبہم حرکت پیدا کرتا ہےکامطالعہ کرسکتے ہیں یا جب سیّارہ ستارےکےسامنےسےگزرتاہےتوستارےکی روشنی میں واقع ہونےوالی کمی کو “ٹرانزٹ فوٹو میٹری” طریقہ سےسیارےکا رداس معلوم کرنےمیں مددلی جاسکتی ہے.لیکن ہم نظامِ شمسی سےباہرکےسیاروں کوبظاہر حرکت کرتاہوادیکھ نہیں سکتےکیونکہ ایک تو یہ بہت دوراوربہت چھوٹےہوتےہیں اور انکےستارےسےآنےوالی روشنی انکو مکمل طور پرچندھیادیتی ہے.
“ذراتصورکریں کہ چندسومیٹردورسڑک پر روشنی کاایک دھبہ ہےاورایک پتنگااس کےگردمنڈلارہاہے، جارج مارٹن جو چلّی کی ایک انسٹیٹیوٹ میں پی۔ایچ۔ڈی کا طالب علم ہے نے پاپولر سائنس جریدے کو بتایا،کہ یہ پتنگادیکھنےجیسی ہی کوشش ہے”.
اس قابلیت اورمہارت کےباوجودمارٹن اوراسکی ریسرچ ٹیم اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ ابھی ان دور دراز سیّاروں کاایک اچھانظارہ کرسکیں۔ “اسٹرانومی اوراسٹرو فزکس” شمارےمیں چھپنےوالی ایک اسٹڈی کےمطابق ریسرچ کرنے والے پہلی دفعہ ان ماورائے نظامِ شمسی سیّارچوں کی سطح سے منعکس ہونےوالی دِکھتی ہوئی روشنی کی جانچ کرنےکےقابل ہوسکے تھے۔
سیّارہ ۵۱۔پیگاسی۔بی جو اس اسٹڈی میں جانچاگیا۱۹۹۵میں پہلی مرتبہ کنفرم کیا گیا یہ ہمارےسورج سے بہت چھوٹےستارےکےگردگھومتاہوا دریافت ہوالیکن سیّارےکےظاہرہونےکاتصورابھی نہیں ہے۔La-Silliابزرویٹری پر۶۔۳ میٹرکی ای۔ایس۔او ٹیلی سکوپ پرایچ۔اے۔ار۔پی۔ایس الے کااستعمال کرتے ہوئےریسرچ ٹیم نےدیکھاکہ واضح روشنی کاایک منفرد طیف(سپکٹرم) ۵۱۔پیگاسی۔بی نظامِ ستارہ سےأرہاتھاتب انھوں نے روشنی کےاس طیف کامدھم ساعکس وہاں موجود پایااورمحسوس کیاکہ یہ نشان تو ۵۱۔پیگاسی۔بی کی روشنی کاانعکاس ہے۔ مارٹن بتاتا ہےکہ یہ ستارےکی روشنی سے ۱۰۰۰گنامدھم ہے۔ ستارےکی روشنی کاطیف اوردوسرےذرائع سےأنےوالےشورکوختم کرنےسےٹیم ماورائےنظامِ شمسی سیّارےسےأنےوالی روشنی کودیکھ سکتی تھی۔
مارٹن نےیہ بھی نوٹ کیاکہ یہ ایک ایساثبوت تھاجوکانسپٹ اسٹڈی کو ظاہر کرنے کے لئےکیاگیا۔لیکن مستقبل میں کسی سیّارےسےمنعکس شدہ دیکھی جانےوالی روشنی کی پیمائش پہلےسےموجودماورائےنظامِ شمسی سیّارےکی تیکنیک سےملاکرکی جاسکےگی بلکہ دور دراز خلائی چٹانوں کی زیادہ اہم معلومات بھی اخذ کی جاسکیں گی۔
مارٹن کہتا ہےمعلومات کےاس ذخیرےمیں ایک اورتیکنیک کااضافہ بھی کیا جاسکتاہے۔ہم سیّارےکی درجہ بندی کرکےاضافی معلومات حاصل کر سکتے ہیں مثال کےطورپرہم سیّارےکی عکسیّت لےسکتے ہیں اوراس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سیّارے پربادل ہو سکتے ہیں یانہیں اس بات کا اندازہ اس سےمنعکس ہونےوالی روشنی سے ہوگا

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.