Fri. Dec 13th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

صحرائی ریس پر نظر رکھنے کاسیٹلائیٹ نظام

ذرا خیال کریں کہ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بھاری بھر کم گاڑیوں پر ایک بہت ہی خطرناک ریس پلان کر رہے ہیں، اور وہ بھی کسی بہت ہی کٹھن علاقہ میں.اگرآپ کی اس بھیانک ریسننگ گاڑی کے کچھ پرزے یا پھر گاڑی ہی کام کرنا بند کردےاورآپ کا مدمقابل أپ سے سینکڑوں میل دور ہے.ایسی جگہ پر فون بھی کام نہیں کرتاتو کیا ہوگا.یہ بات ایک آی۔ٹی اسپیشلسٹ آف روڈ ریس کے متوالے “بڈ گیسٹون نے بتائی۔ اس نےاسکے لئے ایک”صحرائی ریس ٹریکر”سافٹ وئیر تیار کیا ہے.
اپنےسالہاسال کےسیٹلائٹ ٹریکنگ کےپروفیشنل تجربے کو کام لاتے ہوئےدیجیٹل سیٹلائیٹ کمیونیکیشن سسٹم ترتیب دیااور وہ بھی آف روڈ ریسننگ کےلئے،وہ بتاتا ہے کہ“میں نے اِدھرادھر سے کچھ پرزے لیکر جوڑےاور ایک پروگرام تیار کرکے اسےچلا کر دیکھا،اس سے فرق نہیں پڑتا کہ أپ زمین پر کہاں ریس کھیل رہے ہیں۔جن ٹیموں نے اسے استعمال کیا ہے انکا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی جگہ پر ایک سیٹلائیٹ فون سے بھی زیادہ قابل اعتماد طریقے سے کام کرتا ہے.
گیسٹون ٹریکرز کی ایک ٹیم تیار کرکےاسے پروگرام کرتا ہے جسمیں یہ ٹریکرز ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہیں نہ کہ علیحدہ علیحدہ.
ریسننگ گاڑیوں اور انکاپیچھا کرنے والی گاڑیوں میں ملٹری گریڈ اینڈرائیڈ چلانے والے ٹیبلٹ انٹرفیس نصب کئے ہوتے ہیں جو ہر طرح کے جھٹکوں اور أف روڈ ریس کی دوسری مصیبتوں کو برداشت کرسکتے ہیں اگرچہ گاڑی ۱۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہی کیوں نہ جارہی ہو.
ہر صحرائی ٹریک سسٹم کو گیسٹون خود بناتا اور انسٹال کرتا ہےاورٹیم کو ٹچ پیڈ سے 160 کریکٹر کا میسیج دینے کی ٹریننگ بھی دیتا ہے اس سے وہ ریس والی اور پیچھا کرنے والی تمام ٹیم کی گاڑیوں کو ایک ہی دفعہ نقشے پر دیکھ سکتا ہے

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.