Sat. Aug 15th, 2020

scifi.pk

Urdu Science & Technology

اِنسانی آنکھ کا روشنی کے علیحدہ علیحدہ ذرات کا مشاہدہ

1 min read

ہم جتنی بھی کوشش کریں انسانی آنکھ اندھیرے میں نہیں دیکھ سکتی، روشنی کی موجودگی میں آنکھ کے مخصوص خلیے کام کرنا شروع کرتے ہیں. تہقیق دان دھائیوں سے اس بات کو جاننے کی کوشش میں ہیں کہ انسانی آنکھ روشنی کےکم سے کم کتنےذرات کی موجودگی میں دیکھ سکتی ہے. یونیورسٹی أف ایلینوئس نے اب یہ ڈھونڈ نکالا ہے کہ أنکھ کے دیکھنے کی کم ازکم حد روشنی کے تین ذرات ہیں.
ہماری أنکھ میں موجود راڈ نامی سیلزگرے رنگ کےشیڈز کے لئے کام کرتے ہیں اور روشنی سے بہت حساس ہوتے ہیں (کون سیلز رنگین چیزوں کے لئے کام کرتے ہیں لیکن اندھیرے میں کام نہیں کرتے)، یہی وجہ ہے کہ تہقیق دان راڈ خلیات پر تحقیق کر رہے تھے کہ یہ کم سے کم کتنی روشنی میں کام کرتے ہیں. صرف راڈ خلیات پر “Pattri Dishes” تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ روشنی کے ایک سیل کی موجودگی میں بھی اپنی حرکت ظاہر کرتے ہیں، لیکن یہ جسم میں اس طرح کام نہیں کرتےکیونکہ روشنی کا ایک سیل راڈ تک پہنچ نہیں پاتا کہ یہ منعکس ہوجاتا ہے. پچھلے تجربات میں محققین کا خیال تھا کہ روشنی کے چھ یا سات ذرات ہی سے راڈ خلیے اپنا عمل ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ محققین روشنی کومکمل طور پر کنٹرول نہیں کرپائے تھے.اس دفعہ رضاکاروں کو ایک اندھیرے کمرے میں رکھا گیا اور انکی أنکھوں پرروشنی کےصرف تیس ذرات پیھنکے گئےاور فرض کیا گیا کہ صرف دس فیصد ذرات راڈ سیلز تک پہنچ پائیں گے.رضاکاروں نے اندازہ لگانا تھا کہ یہ سیل دائیں جانب سے آریے ہیں یا بائیں جانب سے،اگر وہ یہ نہ بھی جانچ سکیں پھر بھی یہ لائٹ انھیں نظر تو آئیگی. جب لائٹ کے یہ تیس ذرات ان پر پھینکے گئے تو ان میں سے زیادہ تر نے ان کو جانچ لیا جس سے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ
آنکھ روشنی کے تین ذرات کو دیکھ سکتی ہے. مستقبل میں محققین اس سے بھی کم ذرات کو جانچنا چاہتے ہیں، اور دماغ کی لہروں کی مدد سے آنکھ کے دیکھنے کی صلاحیت جانچ سکیں گے. وہ امید کرتے ہیں کہ وہ روشنی کے ذرے کی ایک وقت میں دو جگہ پر موجودگی جانچ سکیں گے، اوریہ کہ آنکھ اس پر کس طرح ردعمل ضاہر کرتی ہے.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.