Fri. Dec 13th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

شہابیوں کی تباہی کے لئے ضرورت برائے مالی امداد

1 min read

یہ قیامت کا حتمی منظر نامہ ہے: ماہرِین فلکیات نے غیر معمولی طور پر میلوں چَوڑےزمین سے ٹکرانے والے شہابیوں کی نشاندہی کی ہے. ہمارے سیارے زمین سےاس شعلہ فشاں ٹکراؤ کا مطلب زمینی تہذیب کو خدا حافظ کہنا ہے، اس تباہ کن خطرے سے نمٹنے کے لئےدنیا بھر کے لوگوں کو اکٹھا ہونے کےلئے صرف چند ہفتےدرکار ہیں. خوش قسمتی سے شائد ہی ہمارا سامنا اس طرح کی اچانک تباہ کن مشکوک صورتحال سے ہو. ناسا،دوسرے سرکاری ادارےاور دنیا بھر کےماہر فلکیات ان شہابیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ ہماری تہذیب کو تباہ کرنے کی طرف بڑھیں وہ اس بات کی دہائیوں پہلے ہی خبر دے سکتے ہیں. وقت سے بہت پہلےاس طرح کا انتباہ ہمیں اس قابل بنا سکتا ہے کہ ہم ان کا راستہ تبدیل کر سکیں.لیکن اس کی بجائے ہمیں ۱۰۰ سے ۱۰۰۰ ڈایا میٹر کے چھوٹے شہابیوں سے زیادہ خطرہ ہے. ’’ایڈپ‘‘ غیرمنافع بخش تنظیم اس طرح کے خطرات سے أگاہی دینے کی کوشش کر رہی ہے. وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ خلائی چٹانوں کی نسبت یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ ٹکرانے سے چند ہفتے ہی پہلے نظر آتے ہیں.
کسی بڑے شہر کی طرف بڑھتے ہوئے شہابیے کواگر سائنسدان دیکھ بھی لیں تو اس کا اثر ایک ایٹمی دھماکے جتنا ہوگا. ایک ۱۵۰ میٹر چوڑا شہابیہ ایک میٹروپولیٹن شہر کو کسی بھی خطرہ کے مطعلق اطلاع دینے سے پہلے ہی تباہ کرسکتا ہے.۳۰سے۵۰ میٹر چوڑاشہابیہ ایک قصبے کو تباہ کرسکتا ہے.سن ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۳ کے درمیان ’’نیوکلئیر ٹیسٹ بین ٹریٹی نامی تنظیم‘‘ نے چھبیس کئ کلو ٹن دھماکوں کا پتہ لگایا ہےیہ سب شہابیوں کے اثرات ہیں. خوش قسمتی سے زمین بہت بڑی ہےاور یہ چٹانیں اگر ہماری فضاء میں نہیں پھٹتیی تو یایہ سمندر میں یا کسی غیرآباد علاقہ میں گریں گی. ابھی دوسال پہلے ہی روس کے شہر چیلیابنسک پر پینسٹھ فٹ چوڑا شہابیہ گرا تھا. اگرچہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا پھر بھی اس کے پانچ سو کلوٹن توانائی کے دھماکے سےعمارتوںکے شیشے ٹوٹ گئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور تقریباً تینتیس ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا. چیلیابنسک کا شہابیہ اس سے زیادہ نقصان دہ ہوتا اگر یہ ۱۰۰ فٹ سے بڑا ہوتا. اس طرح کا شہابیہ اگر کسی آبادی کی طرف بڑھے تو ناسا کسی بھی لمحے اس سے نمٹنے کی صلاحیت والے ہتھیار نہیں رکھتا. سن ۲۰۱۳ میں جب ناسا کے ایڈمنسٹر چارلس بولڈن سے سوال کیا گیا کہ اگر اس طرح کا کوئی شہابیہ نیویارک کی جانب بڑھے تو أپ کیا کرسکتے ہیں تو انکا بڑا سرد جواب تھا ’’دعا‘‘.
’’ایڈپ‘‘ اس جواب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے. فلحال یہ ادارہ اس قسم کی چٹانوں سے نمٹنے کے لئے ایک فنڈ جمع کر رہا ہےجو ’’ہائپر ولاسٹی اسٹیرائیڈ وہیکل یاHAIV‘‘ نامی اسپیس کرافٹ ڈیزائن کرنے اور بنانے میں کام أئیگا. HAIVs چھوٹی اسپیس کرافٹس ہیں جو شہابیوں یا چٹانوں کو نیوکلئیر بم کی مدد سےچند دن کی وارننگ پر تباہ کرسکتی یاانکو بہت بڑے ایریا پر پھیلا سکتی ہیں.
ایڈپ کے بانی چیئرمین”سویرن اکیلڈ” کہتے ہیں کہ ھمیں نیوکلئیر ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ ہم انکی ترسیل کےلئےایک گاڑی استعمال کر سکتے ہیں. امریکہ کے پاس ضرورت کے مطابق دھماکہ خیزہتھیار موجود ہیں اور ہم سکیورٹی خطرات کم کرنے کے لئےگاڑی فراہم کرسکتے ہیں. HAIV دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتی ہے: لیڈر اور وار ہیڈ گائیڈننگ فالو وَر.
جب کوئی شہابیہ نظر أجاتا ہےتو HAIV ایک دن کے اندر راکٹ لوڈ کرتاہےاورأنےوالےخطرےکی جانب سفر شروع کردیتا ہے. شہابئے تک پہنچنے سے پہلے لیڈر سیکشن علیحدہ ہوکراس کے اثر کو جانچتا ہےاوراسکامنہ بناتا ہے. تب فالوَر اس منہ میں داخل ہوجاتا ہےاور شہابیئے میں اندر دور تک جا کر بم کو دھماکے کےلئے تیار کرتا ہے. نتیجتاً چٹان ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے.
یہ کام کیسے کرتی ہے:
ایڈپ
ایکولیند کہتے ہیں کہ ہم سائنس مشن فنڈ قائم کریں گے جس سے ہم ایرو سپیس کمپنیز کے ساتھ ملکر سپیس کرافٹ کے پرزہ جات بنائیں گے. وہ کہتے ہیں کہ فلہال ہمیں دو لاکھ ڈالر درکار ہیں جس سے ہم تہقیق کا کام شروع کرسکیں، جبکہ ایڈپ کا تخمینہ ہے کہ انھیں اس پراجیکٹ کے لئے پچاس ملین ڈالردرکار ہیں جن میں سے پچیس ملین پہلی گاڑی بنانے اور ٹیسٹ کرنے میں صرف ہونگے جبکہ دوسرے پچیس دوسری گاڑی بنانے میں استعمال ہونگےجو اس وقت کام أئےگی جب کوئی چٹان ہماری طرف أتی ہوئی پتہ چلےگی. ایڈپ کہتی ہے کہ اگر یہ فنڈ انھیں مل جائے تو دو سال میں یہ HAIVs تیار اور ٹیسٹ ہوجائیں گی. ایڈپ کو امدادحاصل کرنے میں ابھی مشکلات کا سامنہ ہے، تیس دنوں کی مھنت میں صرف چھ ہزار پانچ سوڈالر ہی جمع ہوسکے ہیں.
یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک سو میگاٹن کا شہابیہ زمین کیطرف اپنا رخ کرنے کا احتمال صرف اعشاریہ صفر ایک (0.01)فیصد ہی ہے. اکیلڈ کہتے ہیں کہ اس قدر کم خطرے کے باوجود لوگوں کے لیے یہ بہت ہی حساس معملہ ہے
.انسانی دماغ خطرات سے محفوظ بنانے کے لئے بنا ہے نہ کہ أسمان میں تیرتی ہوئی چٹانوں کو دیکھنے کے لئےجو ہردس سال میں ایک دفع گرتی رہیں، اگرچہ اس ٹکراو کا اتفاق بہت ہی کم ہےلیکن اس کے نتائج بہت باااثر ہونگے.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.