Fri. Dec 13th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

کتوں کے زکام وائرس کا اگلا شکار انسان

1 min read

کتوں میں پائے جانے والے زکام کےوائرس کا اگلا شکار انسان ہوگا!
شکاگو (ا مریکہ)میں تقریباََ ایک ہزار کتوں میں پایا جانے والا “کیٹائین فلو” وائرس اب ایک چھوت کی بیماری کا درجہ اختیار کر چکا ہے اور اس طرح کے واقعات اردگرد کی درجنوںامریکی ریاستوں میں بھی بڑھ رہے ہیں. زکام جیسے وائرس جانوروں میں ایک دوسرے میں پھیلتے میں اور انسان اس سے مبّرا نہیں ہے کیونکہ یہ پالتو جانور ہمارے ساتھ میں ہی رہتے میں.
کتوں میں پایا جانے والا زکام حیران کن طور پر انسانی زکام جیسا ہی ہوتا ہے. انکی ناک بہتی ہے، کھانسی آتی ہے اور تھکا دینے والی علامات پائی جاتی ہیں. انسانوں کی طرح یہ بھی ایک دوسرے کو بیماری منتقل کرتے ہیں.
اس بیماری سے موت شاذونازر ہی ہوتی ہے لیکن اگر کتے کا مدافعتی نظام کمزور ہو یا وہ بوڑھا ہو تو یہ خطرناک ہو سکتی ہے. وہ جگہیں جہاں کتے اکٹھے ہوتے ہیں جیسے کتوں کے پارک، سائبان یا “ڈے کئیر سنٹرز” ایسی جگہیں ہیں جہاں وائرس نئے میزبان میں منتقل ہوسکتے ہیں. شکاگو میں پائے جانے والے وائرس کی جینیات پہچان اسی طرح کی ہے جیسے یہ کوریا یا ایشیاکو دوسرے علاقوں میں ہےیہ بات کورنیل یونیورسٹی میں مویشیوں کی ادویات کے کالج میں وائرس سائنس کے پروفیسر، ایڈورڈ ڈبوی نے بتائی.ایک اندازہ ہے کہ اسطرح کےH3N2 وائرس کا ایک کتا ملک میں لایا گیا ہوگا. اگرچہ بارڈر سیکیورٹی، ملک میں آنے والے جانوروں کا ویکسینیشن ریکارڈ طلب کرتی ہےلیکن یہ زیادہ تر زراعت میں استعمال ہونے والے جانوروں کے متعلق ہوتا ہے نہ کہ پالتو جانوروں میں جیسے کتا یا بلی. ہر سٹیٹ کے نمائندے جو پالتو جانوروں کے متعلق ہیں وہ اس بات سے متفق ہیں کہ پالتو جانوروں کے لئے بارڈر بہت نرم ہے اور یہ بہت کم ہوتے ہیں لہذا انکو نظر انداز کردیا جاتا ہے.کتوں میں پائے جانے سے پہلےوائرس پرندوں میں پایا جاتا تھا. وئرس ایک طرح سے پلاسٹک ہوتے ہیں اور یہ اپنےآپکو تبدیل کرتے رہتے ہیں. آخرکار اسطرح کے وائرس کو کتے تک پہنچنے کا موقع مل گیا،جسکا سائز بھی اسکے لئے مناسب تھا، اس نے اسے متاثر کردیا. اس طرح کی مدافعت کی وجہ سے آپ ہر سال ایک نئے وائرس کا سامنا کرتے ہیں بعض اوقات تبدیلی اتنی تیزی سے ہوتی ہے کہ ہم اپنا دفاعی نظام اس کے مطابق چلا نہیں سکتے.
اتنی تیزی سے تبدیلی کی وجہ سے یہ انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے. ایک انسان کے ساتھ رہتے ہوئے ایک کتے سے یہ وائرس اس کےمالک میں منتقل ہوسکتا ہے. مفروضے کے طور پر اگر آپ کے کتے کو H3N2 فلو ہو اور آپ کو H1N1 سوٴر والا فلو وائرس اور اگر آپ چھینک ماریں اور آپکے کتے مین یہ واےرس منتقل ہو جائے تو اسے ڈبل انفیکشن ہو جائے گی اور اس ایک خطرناک صورتِحال پیدا ہوجائے گی. حقیقی طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ یہ انسان میں لمبے عرصے تک رہے. لیکن ایسا ہوسکتا ہے۔ یہ ایک لاٹری خریدنے جیسا ہی ہے. یہ تھیوری میں ہی ممکن ہے حقیقی طور پر اسکا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا. انفلوانزا بہت گھمبھیر نتائج پیدا کرسکتا ہے. کتوں کے مالکان نے کینائین فلوپھوٹنے سے پہلے ہی حفاظتی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں کہ وہ انھیں ان جگہوں سے دور رکھتے ہیں جہاں کتے جمع ہوتے ہیں اس طرح قسمت سے یہ پریشانی دور ہوسکتی ہے.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.