Fri. Dec 13th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

وزن اُٹھانے کے لئے چیونٹیوں کی حکمتِ عملی

چیونٹیاں وزن اُٹھانے کے لئے طاقت اور دماغ کا استعمال کرتی ہیں.
ایک نئی تہقیق میں یہ بات پائی گئی ہے کہ چیونٹیوں میں ایک بہت ہی حیران کُن صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسلز کو ملا کر بھاری وزن اُٹھانےکے لئےعمل کرتی ہیں.یہ تحقیق بتاتی ہے کہ چیونٹیاں درجنوں کی یا اِس سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر وزن اُٹھانے کا کام کرتی ہیں، جیسے کسی بڑے کِیڑے کو اٹھانے کے لیے ایک خاص نگران چیونٹی اپنی صلاحیت سے چیونٹیوں کےگروپ کی درست سمت میں رہنمایء کرتا ہے. محسوس یوں ہوتا ہے جیسےچیونٹیوں کاگروپ ایک مصیبت مول لے رہا ہے، سکائوٹ (نگران چیونٹی ) اچانک ایک مختلف زاویے پر زور لگاکربڑی ہوشیاری سےسمت کی تبدیلی کا اشارہ دیتاہے.
ریسرچرز نے نییچر کام جریدے میں بتایا، بجائے اس کے کہ وہ مزاحمت کریں، دوسری چیونٹیاں اُسی لائن میں زورلگانا شروع ہو جاتی ہیں.”ڈاکراوفر” جو اسرائیل کی وایزمین انسٹیٹیوٹ آف سایئنس میں اس تحقیق کا بنیادی لکھاری ہے بتاتا ہے کہ، ایک چیونٹی یہ جانتی ہے کہ مشکل کو حل کیسے کرنا ہے لیکن مسل کی طاقت کی کمی کی وجہ سے وہ وزن اُٹھانہیں سکتی.
وہ بتاتا ہے کہ گروپ اپنے لیڈر کی طاقت کو بڑھاتا ہےتاکہ وہ اپنے خیال کو عملی جامہ پہناسکے. وہ چیونٹی جو ابھی لیڈر تھی دس۔بیس سیکنڈ بعد حیران کُن طور پر چارج بعد میں آانے والی اُس چیونٹی کو دے دیتی ہے جس کے پاس جدید معلومات ہوتی ہیں. سکائوٹ کے متعلق ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ دوسری چیونٹیوں سے مختلف نہیں ہوتی. کوئی اُسے لیڈر مقرر نہیں کرتا وہ خود اپنے آپکو مقرر کرتی ہے،اور یہ مادہ ہوتی ہے نہ کہ نر، کیونکہ اس کے پاس سب سمت کی دُرست اورجدید معلومات ہوتی ہیں.
انسان کے علاوہ چیونٹیاں اُن جانوروں میں سے ہیں جو آپس میں مِلکر اپنے سے بھاری وزن اُٹھاتے ہیں. انسانوں اور چیونٹیوں کے لئےدوسرے چیلنجز میں سے ایک، دُرست ایکشن اورعمل کےدرمیان توازن برقرار رکھنا اور دوسری طرف لچک اختیار کرنا ہوتا ہے.
جانور جو گروپس کی صورت میں رہتے ہیں، جیسےمچھلیوں کا غول اور بھیڑوں کاریوڑ، انھوں نے اکھٹے ہوکرناکام کرنا سیکھ لیا ہے، یہ ایک ایسی خوبی ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہوتی ہے. یہی وہ چیز ہے جو چیونٹیوں کو بجائےاکیلارہنےکےاکھٹاکرتی ہے.بعض اوقات یہ’’رویّےکی قبولیت‘‘نقصان کا باعث بنتی ہے،جب سکائوٹس (نگران چیونٹیاں ) معلومات لئے ہوئے آتی ہیں.
ایک گروپ کی کوشش اور انفرادی کوشش کےتعلق کے درمیان موازنہ کیاجاسکتا ہےجو آٹھ بندوں کی ٹیم مِلکر چپُو چلا رہی ہو اور ایک کنڑولرجو کشتی کو کنٹرول کر رہا ہو اور مقابلے پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہو.اگرچہ ایک فرق یہ ہے کہ راہنمائی کرتی ہوئی چیونٹی کواٹھاےء ہوے وزن کو راستہ بھی دکھانا ہوتا ہے اور کھینچنا بھی ہوتاہے.جبکہ تمام چیونٹیاں وزن کو اُسی سمت دھکیل رہی ہوتی ہیں جدھر وہ چل رہاہوتاہےاورلیڈر کو اُس سمت میں چلانا ہوتا ہے جدھر وہ دُرست سمجھے.ریسرچرز کا خیال ہے کہ ایک چیونٹی محض اپنی کارکردگی سےاپنی لیڈرشپ ظاہر کرتی ہے وہ صرف بات چیت کر کے اپنا آپ کو ثابت نہیں کرسکتی.
تجربات کےلئے جس چیونٹیوں کی نسل کا انتخاب کیا گیا وہ لانگ ہارن کہلاتی ہیں جو کے دنیا بھر میں موجود ھے. اور ان کا تعلق چیونٹیوں کی حملہ آور نسل سے ہے. گرمیوں میں یہ اپنےآپ سےبڑے حشرات کو کھانے کےلئےاپنے گھونسلے میں لےجاتی ہیں.
اس تحقیق میں یہ بات بھی پائی گئی کہ زیادہ تر چیونٹیاں بہت تیزی سےاپنی خوراک کھینچتی ہیں. تجربے کے لئےسائنسدانوں نے ناشتے کے سیریلز استعمال کئےجنھیں چیونٹیوں کے لئے پُر کشش بنانے کےلئےرات بھر بلی کے کھانے والے تھیلے میں رکھا
.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.