Wed. Nov 20th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

نیپال میں زلزلہ آنے کی اصلی وجوہات

نیپال میں اس سال کے شروع میں زلزلہ سے ہونے والی تباہی کی تفصیلات سے، ہائی ریزولوشن عالمی پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) ڈیٹا کے ذریعے انکشافات سامنے آئے ہیں. سات اعشاریہ آٹھ شدت کا تباہ کن’’گورکھا‘‘زلزلہ جو 25 اپریل 2015 کو نیپال میں آنے والازلزلہ ،انڈین ٹیکٹونک پلیٹ کےیوریشین پلیٹ سےٹکرانے اوراس کے نیچے کھسکنے کی وجہ سے آیا،’’میگاتھرسٹ‘‘ کہلاتا ہے.
نیپال میں واقع 35 جی پی اسی اسٹیشنز نے زمین کی حرکت کی ایک سیریز کی تصاویرہر1‪/‬5 سیکنڈمیں کھٹمنڈومیں زلزلہ ختم ہونے کےڈیڑھ منٹ بعد تک کی بنائی ہیں.
اس ڈیٹا کی تفصیلات، ‘جنرل سائنس’ میں چھپی ہیں،جو کہ زلزلہ کے اثرات،جن کی وجہ سے نوہزار لوگ مارے گئے، کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں.
یہ مصبیت کیسے واقع ہوئی اس کے لئے پانچ ہرٹز فریکیونسی کی پیمائش کی مدد سے ایک تفصیلی نقشہ بنا گیا ہے جو کہ اس زلزلہ آنے کی وجوہات اور اس کا پھیلاؤ کیونکر ممکن ہوا کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوا ہے. برکلے یونیورسٹی (کیلی فورنیا،امریکہ) کے ‘ڈاکٹر ڈیاگو’ اس تحقیق کے مصنف، بتاتے ہیں کہ ہمالیہ تھرسٹ فالٹ پرزلزلہ بہت دھیرے سے، جیسے نبض چلتی ہے، شروع ہوا جو چھ سیکنڈ تک رہا یہ کھٹمنڈو سے 140 کلومیٹر مغرب میں پندرہ کلومیٹر کی گہرائی میں تھا.
پیمائشیں بتاتی ہیں کہ بِیس کلومیٹر چوڑی سلپ پلس تین اعشاریہ دو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے جنوب مشرق کی جانب بڑھنا ہوئی، یہ رفتار ہوا میں آواز کی رفتار سے زیادہ ہے.
اسی دوران کھٹمنڈو(نیپال) کے بالکل دس کلومیٹر نیچے کٹائوہے، یہ ایک بہت بڑا زلزلہ ہے جس کے ساتھ فالٹ پانچ میٹر اوپر اٹھتا ہے، لہذا شہر کے نیچے ایک بہت بڑا کٹائو ہےجواپنی تمام انرجی شہر کی کی طرف دھکیلتاہے.
کھٹمنڈو 20 کلومیٹر چوڑی وادی، جوکہ ریت اور مٹی کی تہوں پرمشتمل ہےاور 600 میٹر گہری اورتہ دار چٹانوں سے گِھری ہوئی ہے، میں واقع ہے.”کورکھا”زلزلے نے کھٹمنڈو کے نیچے بیٹھی ہوئی ان تہ دار چٹانوں کو ہلانا شروع کیا، اور ’’سیسمِک‘‘لہروں کو بڑھاوا ملا جو وادی کے اطراف میں آگے اور پیچھے ہوئیں.
ملگار بتاتا ہے جب یہ شہر کے نیچے چٹانوں میں پہنچتا ہےتووہ تمام انرجی اکھٹی ہوجاتی ہے اور اس کی لہریں بہت بڑی ہوجاتی ہیں جو ڈیڑھ منٹ تک رہتی ہیں.
جبکہ جی پی ایس اسٹیشنز نے چٹانوں کے نیچے چند سیکنڈز کے لئے سیسمک ریڈنگز لیں، یہ مسلسل جھولنے کی علامت تھی جسکی وجہ سے اونچی عمارتوں کا زیادہ نقصان ہوا.ہم یہ دکھا سکتے ہیں کہ یہ حرکت بہت آہستہ تھی جس نے کھٹمنڈو کی بڑی بڑی عمارتوں کو ہلا کے رکھ دیا.
یہ واقعہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے جسےپانچ هرٹز کے ہائی ریٹ جی پی ایس نیٹ ورک نےاس براعظم کے نیچےبڑے جھٹکے کے کٹائو کو رکاڈ کیا.
جی پی ایس ٹیکنالوجی جو پچھلے تیس سال سے ٹیکٹونک پلیٹ پر نظر رکھے ہوئے تھا، لیکن ہم اس سے پہلے کبھی اس طرح کےنمونے نیپال میں رکارڈ نہیں کرسکے.ایک سیکنڈ میں ہم پانچ پوزیشن کے سیمپل لے سکتے ہیں، یہ ایک بہت زیادہ سیمپل ریٹ ہے جو زلزہ سے زمین کے ہلنےاور یوریشین پلیٹ کو منتقل ہوتے اور اوپر اٹھتے دیکھ سکتے ہیں.یہ اسی طرح ہے جیسے آپ اپنے گھر میں ایک کارپٹ کو کیھنچیں، ہم یہ پھسلن جی پی ایس ڈیٹا میں دیکھ سکتے ہیں جو اس سے پہلے اس طرح نہیں دیکھی گئی.
اسی دوران جیوسائنس جریدے میں ایک دوسری تہقیق شائع ہوئی جس میں خبر دارکیا گیا کہ کورکھا زلزلہ میں مغربی (نیپال) جانب کی فالٹ میں کسی طرح کی کٹائی نہیں ہوئی اور یہ ابھی تک بند پڑی ہے۔ یہ تہقیق کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (امریکہ) کے پروفیسر جین فلپ نے کی اور خبردار کیا کہ اکھٹا ہوتا ہوا دبائو ایک اور بڑے زلزلہ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے. پروفیسر جین فلپ اوران کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ زلزے سے دبائو مغربی جانب کی چٹانوں میں منتقل ہوا ہے جس کی وجہ سے اس جانب مزید کٹائو ہونے کا اندیشہ ہے.
کھٹمنڈو کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں بار بار زلزلے آتے رہے ہیں جن میں بڑی تباہیاں 1255, 1344, 1408, 1681, 1833 اور 1934 میں ہوئیں.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.