Wed. Nov 20th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

کائنات آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی جانب رواں دواں

1 min read

کہکشاؤں (گلیکسیز) کا جائزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کائنات آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی جانب رواں ہے.
کائنات کی توانائی آہستہ آہستہ کم اورختم ہورہی ہے، یہ بات ستاروں کی کُل توانائی کی پیداوار پر اب تک مکمل ہونے والے مطالعہ میں معلوم ہوئی ہے.
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی سے اس پر پریشان ہونے والی بات نہیں ہے،کیونکہ آخری ستارہ ختم ہونے میں تقریباً سینکڑوں بِلیّن سال لگ جائیں گے. ہونولولو میں’’جنرل اسمبلی برائے انٹرنیشنل اسڑانومیکل یونین‘‘میں انٹرنیشنل سائنسدانوں کی ٹیم نےدولاکھ سے زائد کہکشاوں کے توانائی کے جائزہ کے بعد بتائی ہے.
یہ حقیقت1990 کے آخر میں پتہ چلی کہ کائنات آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے، لیکن گلیکسی اور ماس اسمبلی (GAMA) پراجیکٹ ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ ایسا اکیس مختلف طول موج (ویوّلینتھ) میں ہورہاہے. پراجیکٹ کا سربراہ پروفیسر سائمن ڈرائیور بتاتا ہے کہ آج کہکشائیں جتنی توانائی خارج کررہی ہیں وہ آج سے دوبلین سال پہلےخارج کی جانے والی توانائی سے صرف آدھی ہے. ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر طول موج (ویوّ لینتھ) آج سے دو بلین سال پہلے خارج کی جانے والی توانائی سےتقریباً دُگنی کم ہے. یہ بات بتاتی ہے کہ کائنات اختتام پزیر ہے. اب یہ مدھم اور ختم ہورہی ہےاور اسکا نتیجہ بہت بھیانک ہے قطع نظر اسکے کہ تاریک توانائی یا تاریک مادہ درست ہے یا غلط، یہ کسی کوسمولوجیکل ماڈل پر انحصار نہیں کرتا.
ریسرچرز پرانے اور بہت تھوڑی مقدارِمادہ والے ستاروں پر کام کرتے ہیں، جو اپنے ایندھن میں بہت آہستگی سے جلتے ہیں،اور شائداگلےایک سو بلین سال تک چمک سکیں.
اگرچہ پہلے کی نسبت اب کم توانائی ہے، سٹڈی میں معلوم ہوا ہے کہ ستارےاب پہلے سے زیادہ ہیں. ماضی کی نسبت اب اچھا مادہ زیادہ ہےیا مستقبل اور زیادہ ہوگا، ہم زمانےکے اس دور سے گزر رہے ہیں جس میں ابھی اور ستارے بن اور ختم ہو رہے ہیں.
لیکن اب ہم اس جگہ ہیں جہاں زیادہ مقدار مادہ ختم ہورہاہے بانسبت بننے کے.
گلیکسی کا ارتقا
ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں نے مختلف گلیکسیوں کاایک خاص خلائی علاقے میں مطالعہ کیا اور تمام خارج شدہ توانائی کا ایک نقشہ بنایا.’ڈرائیور’ کہتا ہے ہمارا سروےاسی طرح ہے جیسے انٹارکٹکا کی برف کی“کور” سے ڈرل کرکے سیمپل نکالنا،جتنا آپ نیچے جائیں گےاتنا ہی زمین کی حالتوں کے بارے میں جانیں گے….. پھر چاہے وہ سو ملین یا دو سو ملین سال پہلے ہو.
اس معاملہ میں ہم چانچ بلین سالوں سے زیادہ آگے دیکھ رہے ہیں اور مختلف درجوں میں کہکشاؤں کے نمونے لے رہے ہیں. ہم ان کہکشاؤں (گلیکسیز) کو مختلف اوقات کے دورانیوں پر دیکھ سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ گلیکسی کی تعداد میں کیسے تبدیلی آتی ہے.
بگ بینگ سے کائنات میں جتنی توانائی پیدا ہوئی تھی اس میں سے کچھ مدہ میں قید ہوگئی تھی. کہکشائیں (گلیکسیز) مختلف مقدار میں مختلف ویوّ لینتھ کی توانائی خارج کرتی ہیں، نئے ستارے ہائی آلٹراوائلٹ میں چمکتے میں، پرانے ستارے دکھائی دینے والی میں، گرم دھول درمیانی۔انفراریڈ میں چمکتی ہے اور ٹھنڈی دھول ٖا۔انفراریڈ میں چمکتی ہے.
ڈرائیور کہتے ہیں اگر آپ ان سب کو حقیقتاََ ماپنا چاہیں، تمام توانائی جو وہاں سے آ رہی ہے، آپکوان تمام گلیکسیز کو ماپنا ہوگا ان کی مختلف ویوّلینتھس کے ساتھ.
تاہم وہ یہ مانتے ہیں کہ ہم ڈارک انرجی کی حیران کن خوبیوں کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے، نہ ہی گاما ریز، ایکس ریز اور ریڈیو ویوّز کےحصہ کے بارے میں جو اس سروے میں شامل تھا.
ڈرائیور کو امید ہے کہ وہ
تحقیق کو اور بڑھائیں گےتاکہ کائنات کی تاریخ کی توانائی کی کل پیداوار جان سکیں، اور اس میں اضافی مشاہدات کو، ایکس رے ٹیلی سکوپ سپیس کرافٹ اور سہولیات جیسے سکوئر کلومیٹر ایرے ریڈیو ٹیلی سکوپ، شامل کرسکیں. یہ مطالعہ(تحقیق) رائل اسٹرانومیکل سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسسز میں جمع کروایا گیاہے.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.