Wed. Nov 20th, 2019

scifi.pk

Urdu Science & Technology

امریکہ کے صرف ایک چوتھائی سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم

امریکنزمانتے ہیں کہ کمپوٹر سائنس ضروری ہے لیکن امریکہ کے صرف ایک چوتھائی سکولوں میں اسے پڑھایا جاتا ہے
گیلپ اور گوگل نے سکولوں میں کمپوٹر سائنس کی تعلیم پر ایک جامع سروے کیا ہے. “ہم نے تقریباً سولہ ہزار، ساتویں سے بارہویں گریڈ کے طلباٗ، والدین، اساتذہ، پرنسپلز اور سپرانٹنڈنٹس کے انٹرویو کئے اورہمیں مایوسی ہوئی کہ ہمارا تعلیمی نظام ہمارے بچوں کو مستقبل کے مواقع فراہم کرنے میں بہت سُست اور لاتعلق ہے.”
اس سے قطع نظر کہ کمپیوٹر سائنس کی بھاری معاوضے کی جابز کو دنیا بھر میں آرگنائزیشنز اور انڈسٹری میں پُر کرنے کے لئےطلب بڑھتی جا رہی ہے، چار میں سے صرف ایک پرنسپل کمپیوٹر پروگرامنگ یا کوڈنگ کی تعلیم اپنے سکول میں فراہم کرتا ہے. جب ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ امریکن سکولوں میں کون سی تعلیم دینا چاہئیے یا نہیں دینا چاہئیے، تو اس سےکم از کم ایک نتیجہ صاف طور پر نکلتا ہےکہ کمپیوٹر سائنس پڑھائی جانا چاہئیے. حیران کن طور پر %85 والدین، % 75 اساتذہ اور % 68 پرنسپلز کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر سائنس اُسی طرح اہم ہے جس طرح دوسرے سائنس مضامین جیسے حساب، تاریخ اور انگریزی.
آیئے ان نتائج پر زور دینے کے لئے دوبارہ بیان کریں: والدین کی بہت بڑی تعداد، اساتذہ اور پرنسپلز کہتےہیں کمپیوٹر سائنس اُسی طرح اہم ہے یا ان مضامین سے زیادہ اہم ہےجو اب سکولوں میں پڑھائے جارہے ہیں. ابھی ملک کے ایک چوتھائی سکولوں میں یہ تعلیم فراہم کی جارہی ہے.اس سے پہلے کہ ہم سکولوں کو الزام دیں کہ وہ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم کی اتنی بڑی طلب سےغیر متعلق ہورہے ہیں، یہ واضح ہے کہ یہ ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ ایکو سسٹم کا مسئلہ ہے۔مجموعی طور پریہ آجروں، سیاست دانوں، والدین اوردوسرے بہت سوں کا مسئلہ ہے. شکر ہے کہ ہمارے پاس اب تھقیق موجود ہے جو اس مسئلہ پر والدین، اساتذہ اور سکول لیڈرز کی آواز کوظاہر کرتی ہے.امریکنز، کمپیوٹر تعلیم کے ذریعے ہمارے بچوں کا بہتر مستقبل دیکھتے ہیں، اب ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ایمانداری سے اپنی کوشش سے روشن مستقبل کو حقیقت کا روپ دیں. کمپیوٹر سائنس کی تعلیم سبھی طلبا کی منطتقی، تنقیدی اورتعمیری سوچ میں مدد کرے گی اس سے قطع نظر کہ وہ اسے اپناپیشہ بنائے. جیسےاور پیشے ہوتے ہیں، یہ بہت پیداواری، بہت ترقی اور بہت معاوضے والی نوکریوں میں سے ایک ہے.
بدقسمتی سے عورتوں اور اقلییتوں کی بہت حد تک کمپیوٹر سائنس میں بہت کم نمانئدگی رکھی گئی ہے؛ پرانی سٹڈیز ثابت کرتی ہیں کہ اس تبدیلی میں عورت، کالے اور ہسپانیہ کے طالب علم کمپیوٹر سائنس میں بہت چھوٹی عمر میں دلچسپی لیتے ہیں.
یہ صرف سکولوں کیوجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ٹیلنٹ بڑھانے والا سارا نظام شامل ہے۔ تیزی سے بڑھتے ہوئےاونچی طلب کے مواقع تعلیمی اداروں، انڈسٹری، غیرمنافع بخش سیکٹراور ساتھ ساتھ لوکل، اسٹیٹ اور فیڈرل گورنمنٹس کو گفت و شیند، تعاون اور عمل کی ضرورت ہے. اس سب کا حصہ ہونے کے ساتھ، ہمیں توجہ سے اس کے بنیادی عناصر اسٹوڈنٹس، والدین، اساتذہ کو سننےاور جاننے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اس سارے نظام کے بنیادی شراکت دار ہیں. جب گیلپ اور گوگل نے پرنسپلز سے پوچھا کہ انھوں نے سکولوں میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم میں سبب سے بڑی رکاوٹ کیا دیکھی، ان کی پہلی اور دوسری رسپانس یہ تھی کہ انھیں اپنا زیادہ وقت دوسرے کورسز کی ٹیسٹنگ پر صرف کرنا ہوتاہے، اور یہ کہ ان کے پاس سرمائے اور مناسب اہلیت والے اساتذہ جو کمپیوٹر سائنس پڑھا سکیں کی کمی ہے. یہ ایک ترجیحات اور انسانی سرمائے کامعاملہ ہے.
ہمیں ان معاملات کو بیان کرتے ہوئے بڑے فیصلے لینا ہونگےاگر:
1. انڈسٹری، غیر منافع بخش سیکٹراور گورنمنٹس سب درجوں میں مدد کرتے ہوئےاساتذہ اوراسٹوڈنٹس کے لئے تربیتی وسائل فراہم کرے.
2. ہم سب اپنے خیالات کی مشق کریں کہ ہم کیا پڑھانا چاہتے ہیں یاسکول میں کیا پڑھایا جارہاہےتب یقین کریں کہ ہمارےان مقاصد کے حصول میں ٹیسٹنگ اور احتسابی نظام رکاوٹ نہیں بنیں گے. یہ واضح ہے کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی ترجیحات میں اور موجودہ طور پر کیا پڑھایا جا رہاہے دونوں میں ایک بہت بڑا خلا ہے. یہ وقت ہے کہ اس کوڈ کو توڑیں اور سکولوں میں کوڈنگ شروع کریں.

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.